Episodios

  • قرآن حکیم کی نمائندہ انسانی تہذیب کے تناظرمیں موجودہ استحصالی ورلڈ آڈرکے انسانیت دشمن کردار کا جائزہ | 09-01-2026
    Jan 14 2026
    قرآن حکیم کی نمائندہ انسانی تہذیب کے تناظر میں موجودہ استحصالی ورلڈ آڈر کے انسانیت دشمن کردار کا جائزہ
    خطبہ جمعۃ المبارک
    حضرت مولانا ڈاکٹر مفتی سعیدالرحمن حفظہ اللہ
    بتاریخ:19؍ رجب المرجب 1447ھ /9؍ جنوری 2026ء
    بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور، ملتان کیمپس
    خطبے کی راہنما قرآنی آیت

    لَا یَنْهٰكُمُ اللّٰهُ عَنِ الَّذِیْنَ لَمْ یُقَاتِلُوْكُمْ فِی الدِّیْنِ وَ لَمْ یُخْرِجُوْكُمْ مِّنْ دِیَارِكُمْ اَنْ تَبَرُّوْهُمْ وَ تُقْسِطُوْۤا اِلَیْهِمْؕ-اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُقْسِطِیْنَ(8)اِنَّمَا یَنْهٰىكُمُ اللّٰهُ عَنِ الَّذِیْنَ قٰتَلُوْكُمْ فِی الدِّیْنِ وَ اَخْرَجُوْكُمْ مِّنْ دِیَارِكُمْ وَ ظٰهَرُوْا عَلٰۤى اِخْرَاجِكُمْ اَنْ تَوَلَّوْهُمْۚ-وَ مَنْ یَّتَوَلَّهُمْ فَاُولٰٓىٕكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ۔(الممتحنہ:8-9)

    ترجمہ: اللہ تمہیں ان لوگوں سے منع نہیں کرتا جو تم سے دین کے بارے میں نہیں لڑتے اور نہ انہوں نے تمہیں تمہارے گھروں سے نکالا ہے اس بات سے کہ تم ان سے بھلائی کرو اور ان کے حق میں انصاف کرو بیشک اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔ تمہیں اللہ انہیں سے منع کرتا ہے کہ جو دین میں تم سے لڑے اور انہوں نے تمہیں تمہارے گھروں سے نکال دیا اور تمہارے نکالنے پر (لوگوں کی) مدد بھی کی کہ ان سے دوستی کرو اور جس نے ان سے دوستی کی تو پھر وہی ظالم بھی ہیں۔

    ۔۔۔۔خطبے کے چند مرکزی نکات۔۔۔۔
    0:00 آغاز
    00:59 مظلوم طبقات کی حفاظت؛ انبیاء کی جدوجہد کا محور
    06:51 دین اسلام کا بنیادی مقصد؛ ظلم کا خاتمہ، انسانی حقوق کی حفاظت
    11:29 قومی اور انسانی وسائل کے متعلق دین کا بین الاقوامی اصول
    17:46 عالمی استحصالی انجمن اور اس کے ہتھکنڈے
    20:19 اقوام سے تعلقات کے دینی اصول
    26:16 مسلم دور کے عالمی نظام کا مروج نظام سے موازنہ
    31:25 دین اسلام کا جنگ کا اصول اور تقسیم انسانیت کا سامراجی طریق کار
    36:24 باہمی تعاون پر مبنی بین الاقوامی تعلقات کا دینی اصول
    42:25 استحصال کا عالمی نظام اور عدل و انصاف کے مسلم ورثہ کے تعارف کی ضرورت

    https://www.rahimia.org/
    https://facebook.com/rahimiainstitute/
    منجانب رحیمیہ میڈیا

    Más Menos
    46 m
  • خیر و حکمت کا جامع قرآنی تصور ، اس کے قیام میں امت کے طبقات کا کردار اور معروضی تقاضے | 09-01-2026
    Jan 13 2026
    خیر و حکمت کا جامع قرآنی تصور ، اس کے قیام میں امت کے طبقات کا کردار اور معروضی تقاضے

    خطبہ جمعۃ المبارک

    بتاریخ: 19؍ رجب المرجب 1447ھ / 9؍ جنوری 2025ء

    بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور

    خطبے کی رہنما آیتِ قرآنی وحدیثِ نبوی ﷺ:

    آیتِ قرآنی:

    وَلِكُلٍّ وِجْهَةٌ هُوَ مُوَلِّيهَا فَاسْتَبِقُوا الْخَيْرَاتِ أَيْنَ مَا تَكُونُوا يَأْتِ بِكُمُ اللَّهُ جَمِيعًا۔ (2 – البقرۃ: 148)

    ترجمہ (از حضرت لاہوریؒ) ”اور ہر ایک کے لیے ایک طرف ہے، جس طرف وہ منہ کرتا ہے، پس تم نیکیوں کی طرف دوڑو، تم جہاں کہیں بھی ہو گے تم سب کو اللہ سمیٹ کر لے آئے گا “۔

    حدیثِ نبوی ﷺ:

    اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ فِعْلَ الْخَيْرَاتِ، وَتَرْكَ الْمُنْكَرَاتِ۔ (جامع ترمذی، حدیث: 3235)

    ترجمہ: ” اے اللہ! میں تجھ سے بھلے کاموں کے کرنے اور منکرات (ناپسندیدہ کاموں) سے بچنے کی توفیق طلب کرتا ہوں “

    ۔۔۔ خطبے کے چند مرکزی نکات ۔۔۔

    ✔️فکری سمت کے تعین اور خیر میں سبقت کا قرآنی حکم

    ✔️خیر بطور منظم عملی نظام، نہ کہ محض نیت یا جذبہ

    ✔️ہر فرد، خاندان، قوم اور ریاست کی ایک وِجْہَة

    ✔️ بیت المقدس کی طرف سترہ ماہ رخ اور دعوتی حکمت

    ✔️ بیت اللہ الحرام بطور عالمی قبلہ اور دعوت میں تدریج

    ✔️ سمت کے مقابلے میں خیر کی اصل اہمیت اور جامع مفہوم

    ✔️ نیکی میں مقابلہ: فعلُ الخیرات بمقابلہ فعلُ المنکرات

    ✔️خیر کی متحرک حیثیت اور حکمت کے ساتھ اس کی صورت

    ✔️ حکمت بطور خیرِ کثیر کا قرآنی اصول

    ✔️علمُ الحکمة بطور قرآن کا بنیادی اور اولین علم

    ✔️حکمتِ نظری اور حکمتِ عملی کے دائرے

    ✔️موعظتِ حسنہ کے بعد فعلُ الخیرات کا مرحلہ

    ✔️فعلُ الخیرات بطور امرِ الٰہی کو عملی شکل دینا

    ✔️امامت: وعظ نہیں بلکہ ہدایت بالامر اور اجتماعی نظم

    ✔️حضرت ابراہیمؑ کی امامت اور امام کی دو بنیادی صفات

    ✔️نماز کا عملی نظام بطور فعلُ الخیرات کا نمونہ

    ✔️نَسَمَہ کا اسمِ الہادی سے رنگین ہونا اور عمل کا ظہور

    ✔️ صِبْغَةُ اللّٰہ: عقل، قلب اور نفس کی ہم آہنگی

    ✔️منکر بطور انسانیت دشمن عمل اور ترکُ المنکرات

    ✔️نبوی دعا: فعلُ الخیرات اور ترکُ المنکرات کی اہلیت

    ✔️ہر مومن بطور امام اور حدیثِ راعی کا تصور

    ✔️خلفائے راشدین، فقہاء، محدثین اور اولیاء کا منہج

    ✔️فقہی قانون سازی میں حکمت کا تنوع

    ✔️امام بخاریؒ کا حدیثی منہج بطور فعلُ الخیرات

    ✔️اولیاء اللہ کا تزکیۂ نفس اور روحانی تطبیق

    ✔️ہر دور میں حالات کے مطابق فعلُ الخیرات کی تعیین

    ✔️1920 کے بعد ولی اللّٰہی جماعت اور قومی وحدت اور نیشنل ازم

    ✔️نَسَمَہ کی ہدایت اور فعلُ الخیرات بطور زندگی کا منہج

    ✔️فعلُ الخیرات اور ترکُ المنکرات بطور نجات کا قرآنی راستہ

    منجانب رحیمیہ میڈیا

    Más Menos
    1 h y 25 m
  • انسانیت سے بغاوت کے نظاموں کے ردّ میں دین کے سلامتی و مالیاتی اصولوں پر سماجی نظام کی تشکیل کی ضرورت اور نسل نو کے کردار کی اہمیت | 02-01-2016
    Jan 5 2026
    انسانیت سے بغاوت کے نظاموں کے ردّ میں دین کے سلامتی و مالیاتی اصولوں پر سماجی نظام کی تشکیل کی ضرورت اور نسل نو کے کردار کی اہمیت خطبۂ جمعة المبارک بتاریخ: 12؍ رجب المرجب 1447ھ / 2؍ جنوری 2026ء بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور خطبے کی رہنما آیتِ قرآنی وحدیثِ نبوی ﷺ: آیتِ قرآنی: إِنَّ الدِّينَ عِنْدَ اللَّهِ الْإِسْلَامُ وَمَا اخْتَلَفَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ إِلَّا مِنْ بَعْدِ مَا جَاءَهُمُ الْعِلْمُ بَغْيًا بَيْنَهُمْ وَمَنْ يَكْفُرْ بِآيَاتِ اللَّهِ فَإِنَّ اللَّهَ سَرِيعُ الْحِسَابِ۔ (3 – آلِ عمران: 19) ترجمہ (از حضرت شیخ الہندؒ) : ”بے شک دین جو ہے اللہ کے ہاں، سو یہی مسلمانی حکم برداری، اور مخالف نہیں ہوئے کتاب والے مگر جب ان کو معلوم ہوچکا آپس کی ضد اور حسد سے، اور جو کوئی انکار کرے اللہ کے حکموں کا تو اللہ جلدی حساب لینے والا ہے“۔ حدیثِ نبوی ﷺ: ”خَيْرُكُمْ قَرْنِي، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ“۔ (الجامع الصحیح للبخاري، حدیث: 6428) ترجمہ: ”تم میں سب سے بہتر میرا زمانہ ہے، پھر ان لوگوں کا زمانہ ہے جو اس کے بعد ہوں گے۔ پھر ان لوگوں کا زمانہ ہے جو اس کے بعد ہوں گے۔“🔸 خطبۂ جمعہ: نکات0:00 آغاز1:21 سلامتی کے نظام کا فہم و شعور اور علمی و عملی کردار ادا کرنے کی ضرورت3:28 خطبے کی مرکزی آیت کا ما قبل آیت سے ربط اور مختصر تشریح4:16 دینِ اسلام کے علاؤہ کوئی دین عند اللہ قابل قبول نہیں!6:02 سوسائٹی کے علمی و عملی حقائق پر مشتمل دینِ اسلام کے نظام کا قیام8:41 انسانوں میں دو طرح کی قوتیں کارفرماں نیز علمی گمراہی اور عملی خرابی کی حامل جماعتیں 11:09 اہلِ کتاب کی خرابی؛ انسانیت سے بغاوت اور سلامتی کے نظام کے قیام کا انکار13:34 بغاوت پر قائم ریاستیں اور ممالک اور بقائے انسانیت کے لیے سلامتی کا نظام لازمی و ضروری14:49 بغاوت کی اساس پر دین کے لیے ریلیجن کی اصطلاح‘ سامراجی ہتھکنڈا15:41 اسلام کے دین ہونے کی بنیاد علم پر قائم17:13 نوعِ انسانیت کی بقاء و سلامتی کا سسٹم: معروفات کا حکم اور مُنکرات کی ممانعت 20:48 سلامتی کے نظام کے اصول یکساں لیکن معروض کے مطابق منہج (حکمت عملی) مختلف 23:46 تورات کی شکل میں سلامتی اور انسانی اقدار پر مبنی پہلا آئین اور یہود کی بغاوت24:43 حضرت موسیٰؑ کا تورات کے سلامتی کے نظام کی حفاظت اور نفاد کی وصیت28:02 تیسرے قرن کے بعد نظامِ تورات میں بگاڑ پیدا ہوا28:38 ملکی نظام کی دو اساسیات اور بے اختیار حکومتوں کا تحلیل و تجزیہ31:23 اہلِ کتاب کا اختیارات و وسائل کا غلط استعمال‘ آیت کے تناظر میں ان کی بغاوت کا جائزہ37:09 حضور ﷺ کے زمانے کے اہل کتاب کا علم ہونے کے باوجود بغاوت و سرکشی کا رویہ42:56 ہر نبی اور ان کی جماعت کا سلامتی کے نظام کے لیے جدوجہد؛ تاریخی جائزہ44:31 سلامتی کے نظام کے لیے اگلی نسلوں کے کردار کی نبویؐ نشان دہی 47:29 امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی ’’قرن‘‘ کی لاجواب تشریح 50:25 سلامتی و سیاسی نظم و نسق اور مالیاتی ڈسپلن پر مبنی نبویؐ قرن53:15 مربی و رہنما کا مطمح نظر نیز نبی رحمتﷺ کا اہلِ طائف سے حد درجے سلامتی کا طریقہ 55:35 اگلی نسلوں میں سلامتی کے دین کو منتقل کرنے میں حضرت عمر فاروقؓ کا کردار1:00:57 حضرت امیر معاویہؓ کا اگلے دور میں امن و سلامتی کے نظام کے قیام کے لیے بے لاگ کردار1:02:36 حضرت امیر معاویہؓ کا شاہانہ ...
    Más Menos
    1 h y 35 m
  • سماجی تعمیر کے لیے توحید و عدل کے اُصول پر صاحِبُ الرائے اجتماعیت کی ضرورت واہمیت | 26-12-2025
    Jan 1 2026
    سماجی تعمیر کے لیے توحید و عدل کے اُصول پر صاحِبُ الرائے اجتماعیت کی ضرورت واہمیت

    خطبہ جمعۃ المبارک

    حضرت مولانا ڈاکٹر مفتی سعیدالرحمٰن حفظہ اللہ
    بتاریخ: ۵؍ رجب المرجب ۱۴۴۷ھ / 26؍ دسمبر 2025ء
    بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) ملتان کیمپس

    خطبے کی رہنما آیتِ قرآنی :
    قُلۡ اَمَرَ رَبِّىۡ بِالۡقِسۡطِ‌ وَاَقِيۡمُوۡا وُجُوۡهَكُمۡ عِنۡدَ كُلِّ مَسۡجِدٍ وَّادۡعُوۡهُ مُخۡلِصِيۡنَ لَـهُ الدِّيۡنَ ؕ كَمَا بَدَاَكُمۡ تَعُوۡدُوۡنَ۔ (-7الاعراف:29)
    ترجمہ: کہہ دو میرے رب نے انصاف کا حکم دیا ہے اور ہر نماز کے وقت اپنے منہ سیدھے کرو اور اس کے خالص فرمانبردار ہو کر اسے پکارو جس طرح تمہیں پہلے پیدا کیا ہے اسی طرح دوبارہ پیدا ہو گے.

    ۔ ۔ ۔ ۔ درس کے چند مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 👇
    0:00 آغاز
    0:44 قسط اور عدل کا عالمگیر اصول
    5:16 انسانوں میں ارادہ اور اختیار کا اصول
    10:09 انسانی سماج میں عدل کا اصول
    14:26 رائے دینے کا حق اورمشاورت و عدل کا باہمی تعلق
    19:18 صاحب الرائے جماعت اور عصر حاضر کا مشاورتی ڈھونگ
    23:23 شعوری بنیادوں پر رائے کا حق (اسوہ حسنہ کی روشنی میں)
    29:52 قسط اور عدل کے اصول پر جماعت صحابہؓ کی تربیت
    35:14 دین کے دو اساسی شعبے (توحید اور عدل)
    40:16 عدل کا انفرادی و اجتماعی تقاضا
    45:15 شریعت اور عدل کا باہمی تعلق اور عدل کی پامالی کے سماجی اثرات

    بروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔

    https://www.rahimia.org/
    https://web.facebook.com/rahimiainstitute/
    https://www.youtube.com/@rahimia-institute

    منجانب: رحیمیہ میڈیا

    Más Menos
    51 m
  • ردّ نوآبادیاتی تناظر میں نظام فطرت پر استوار دینِ اسلام کا علمی بیانیہ اور اس کی اساس پر انسان دوست نظام کے قیام کی ناگزیریت | 26-12-2025
    Dec 30 2025
    ردّ نوآبادیاتی تناظر میں نظام فطرت پر استوار دینِ اسلام کا علمی بیانیہ اور اس کی اساس پر انسان دوست نظام کے قیام کی ناگزیریتخطبہ جمعۃ المبارکبتاریخ: 5؍ رجب المرجب 1447ھ / 26؍ دسمبر 2025ءبمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور خطبے کی رہنما آیاتِ قرآنیہ: 1۔ إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ لَآيَاتٍ لِأُولِي الْأَلْبَابِ، الَّذِينَ يَذْكُرُونَ اللَّهَ قِيَامًا وَقُعُودًا وَعَلَى جُنُوبِهِمْ وَيَتَفَكَّرُونَ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَذَا بَاطِلًا سُبْحَانَكَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ۔ (3 – آلِ عمران: 190-191)ترجمہ (از حضرت لاہوریؒ): ”بے شک آسمان اور زمین کے بنانے اور رات اور دن کے آنے جانے میں البتہ عقل مندوں کے لیے نشانیاں ہیں۔ وہ جو اللہ کو کھڑے اور بیٹھے اور کروٹ پر لیٹے یاد کرتے ہیں اور آسمان اور زمین کی پیدائش میں فکر کرتے ہیں، (کہتے ہیں): اے ہمارے رب ! تُو نے یہ بے فائدہ نہیں بنایا، تُو سب عیبوں سے پاک ہے، سو ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچا“۔ 2۔ لِلَّهِ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ وَإِنْ تُبْدُوا مَا فِي أَنْفُسِكُمْ أَوْ تُخْفُوهُ يُحَاسِبْكُمْ بِهِ اللَّهُ فَيَغْفِرُ لِمَنْ يَشَاءُ وَيُعَذِّبُ مَنْ يَشَاءُ وَاللَّهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ۔ (2 – البقرۃ: 284)ترجمہ: ”جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے اللہ ہی کا ہے اور اگر تم اپنے دل کی بات ظاہر کرو گے یا چھپاؤ گے اللہ تم سے اس کا حساب لے گا پھر جس کو چاہے بخشے گا اور جسے چاہے عذاب کرے گا اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے“۔🔸 خطبۂ جمعہ: نکات✔ دینِ اسلام کے مکمل علمی و عملی نظام کا فہم و ادراک، بقائے انسانیت کے لیے ضروری ✔ انسانیت‘ حیوانیت کے بھنور میں، راہِ نجات کیا ہے؟✔️ ذات خداوندی کے ساتھ سچا تعلق؛ مقاصد و اہداف✔️ انسان میں اصل حیثیت روح کی ہے، نہ کہ محض جسم کی!✔️ انسانی روح کے تقاضوں کے تین مراکز؛ نفس، قلب، عقل؛ دو دائرے اور اثرات و نتائج ✔️ انسان کی وِجدانی حالت‘ حصولِ علم کی سب سے اعلیٰ قسم✔️ صحیح اور فاسد وِجدان کا دار ومدار اور اَثرات و نتائج✔️ خدا شناسی کا شعور و ادراک‘ ہر انسان کا فطری وِجدان ✔️ عقل مند انسان کے لیے قرآنی معیارات اور ان کا معرفتِ خداوندی کے لیے غور و تدبر ✔️ عقلی غور و فکر کے نتیجے میں حضرات انبیاء علیہم السلام کا اقترابات و ارتفاقات کے عملی نظام کا قیام ✔️ ریاست و سیاست اور نظام کی ضرورت و اہمیت اور ذمہ داریاں ✔️ دینی سسٹم کی اَساسیات ✔️ حضرت عمر فاروقؓ کے سامنے حیوانی عقل کی بنیاد پر سوالات اور اس کا علاج ✔️ خدا شناسی کے متعلق عقلی شکوک و شبہات کا قرآنی مخاصمہ✔️ اسلام کے بارہ سو سالہ دورِ عروج میں ہر علمی و عملی شبہے کے ازالے کے لیے مکمل رہنمائی ✔️ ہندوستان میں دورِ زوال میں اسلام کے متعلق علمی شکوک وشبہات کے ہتھکنڈے ✔️ شکوک وشبہات پر مبنی غلامی کا نیا علمی بیانیہ؛ پسِ پردہ محرکات ✔️ عیسائی مشنری کی طرف سے خدا کے وجود پر سوالات اور حضرت نانوتویؒ کا حقانیتِ اسلام کا عملی و عقلی بیانیہ ✔️ اس علمی بیانیے کی اساس پر حضرت نانوتویؒ کا ”حجۃ الاسلام“ کے لقب سے موسوم ہونا ✔️ نوآبادیاتی دور کے بیانیے کی ناکامی؛ برٹش شہنشاہیت کا تشدّد اور فتوے ...
    Más Menos
    1 h y 36 m
  • حکمتِ نظری و عملی کے دائروں میں ولیُ اللّٰہی اُسلوبِ فکر اورعصرِ حاضر کی حکمتِ سعیدیہ کا جائزہ | 19-12-2025
    Dec 25 2025
    حکمتِ نظری و عملی کے دائروں میں ولیُ اللّٰہی اُسلوبِ فکر اورعصرِ حاضر کی حکمتِ سعیدیہ کا جائزہ

    خطبہ جمعۃ المبارک
    حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری
    بتاریخ: 27؍ جمادی الاخریٰ 1447ھ / 19؍ دسمبر 2025ء
    بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور، ملتان کیمپس

    خطبے کی رہنما آیتِ قرآنی

    آیتِ قرآنی:
    ‌ادْعُ ‌إِلَى سَبِيلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَجَادِلْهُمْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ۔ (-16 النّحل: 125)
    ترجمہ: ”اپنے رب کے راستے کی طرف دانش مندی اور عمدہ نصیحت سے بلا اور ان سے پسندیدہ طریقہ سے بحث کر“۔

    🔸 خطبۂ جمعہ: نکات
    0:00 آغاز
    1:15 ادھورے اور ناقص نظام اور دینِ اسلام کے کامل و مکمل فکر و عمل کی دعوت
    3:24 حکمت کا بنیادی اصول؛ غلط افکار و نظریات اور اعمال کو روک کر صحیح سمت کی طرف گامزن کرنا
    9:10 حکمت کے دو دائرے؛ حکمتِ نظری و عملی اور انبیاءؑ کی بعثت
    11:08 ایمان کی تعریف؛ ہر علم و عمل میں اتباعِ رسول اللہ ﷺ اور اس پر پختہ یقین
    12:44 حکمت نظری و عملی کی تین قسمیں
    19:35 نبی اکرم ﷺ کی حکمت کے ان چھ دائروں کی درستگی کی دعوتِ حق اور درست فکر و عمل کا تعین
    20:10 مکہ میں مشرکین کے غلط الوہی تصورات اور مدینہ میں یہود ونصاریٰ کے فاسد ابہامات کا رد
    27:48 آپؐ کا حکمتِ ریاضیہ و طبیعیہ کے نکتۂ نظر سےغلط تصورات و خیالات کی تردید اور صحیح فکر و عمل کا تعین
    35:03 حکمتِ عملیہ کے تینوں دائروں میں نبی اکرمؐ کی رہنمائی
    46:15 خلفائے راشدینؓ کا اس حوالے سے اسوۂ حسنہ کا کامل اتباع اور حکمت، موعظتِ حسنہ و مجادلہ و حسنہ کی اساس پر مضبوط و مستحکم قومی و بین الاقوامی نظام کا قیام
    56:34 گذشتہ خطبہ جمعہ سے ربط و تعلق
    ✔ پہلے دور میں فلسفہ، حکمتِ نظری و عملی کا چیلنج اور ولی اللہی حکمت کا اسلوب
    ✔ دوسرے دور (1857ء) میں دہریت و غلامی کا چیلنج اور امداد اللہی و قاسمی ورشیدی حکمتِ عملی
    ✔ تیسرے دور (1947ء) میں جدید ظالمانہ نظام کا چیلنج اور حکمتِ سعیدیہ کی اساس پر مجدد العصر کا فکرو عمل
    ✔ آج کا معروضی تقاضا اور دعوتِ فکر و عمل

    بروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔

    https://www.rahimia.org/
    https://web.facebook.com/rahimiainstitute/
    https://www.youtube.com/@rahimia-institute

    منجانب: رحیمیہ میڈیا

    Más Menos
    1 h y 43 m
  • دین اسلام کا تصور عدل و توازن اور امتِ وسط کی ذمہ داری | 28-11-2025
    Dec 7 2025
    دین اسلام کا تصور عدل و توازن اور امتِ وسط کی ذمہ داری
    خطبہ جمعۃ المبارک
    حضرت مولانا ڈاکٹر مفتی سعیدالرحمن حفظہ اللہ
    بتاریخ: 7؍ جمادی الاخریٰ 1447ھ / 28؍ نومبر 2025ء
    بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور، ملتان کیمپس

    خطبے کی راہنما قرآنی آیت
    وَجَاهِدُوْا فِى اللّـٰهِ حَقَّ جِهَادِهٖ ۚ هُوَ اجْتَبَاكُمْ وَمَا جَعَلَ عَلَيْكُمْ فِى الدِّيْنِ مِنْ حَرَجٍ ۚ مِّلَّـةَ اَبِيْكُمْ اِبْـرَاهِيْـمَ ۚ هُوَ سَـمَّاكُمُ الْمُسْلِمِيْنَ مِنْ قَبْلُ وَفِىْ هٰذَا لِيَكُـوْنَ الرَّسُوْلُ شَهِيْدًا عَلَيْكُمْ وَتَكُـوْنُـوْا شُهَدَآءَ عَلَى النَّاسِ ۚ فَاَقِيْمُوا الصَّلَاةَ وَاٰتُوا الزَّكَاةَ وَاعْتَصِمُوْا بِاللّـٰهِۖ هُوَ مَوْلَاكُمْ ۖ فَنِعْمَ الْمَوْلٰى وَنِعْمَ النَّصِيْـرُ (الحج:78)
    ترجمہ: اور اللہ کی راہ میں کوشش کرو جیسا کوشش کرنے کا حق ہے، اس نے تمہیں پسند کیا ہے اور دین میں تم پر کسی طرح کی سختی نہیں کی، تمہارے باپ ابراہیم کا دین ہے، اسی نے تمہارا نام پہلے سے مسلمان رکھا تھا اور اس قرآن میں بھی تاکہ رسول تم پر گواہ بنے اور تم لوگوں پر گواہ بنو، پس نماز قائم کرو اور زکوٰۃ دو اور اللہ کو مضبوط ہو کر پکڑو، وہی تمہارا مولٰی ہے، پھر کیا ہی اچھا مولٰی اور کیا ہی اچھا مددگار ہے۔

    ۔۔۔۔خطبے کے چند مرکزی نکات۔۔۔۔ 👇
    ✔ اسلام دین فطرت اور دیگر عنوانات پر قائم مذاہب کی حقیقت
    ✔ دین محمد ﷺ کی حقیقی پہچان اور ملت ابراہیم
    ✔ الٰہی شریعت کی خصوصیت اور انسانی قوانین
    ✔ انسانیت کی ابدی اقدار
    ✔ قابل تغیر احکام اور دین اسلام کی متوازن شریعت
    ✔ فرد اور اجتماعیت میں توازن اور انتہا پسندانہ فلسفے
    ✔ دینی اسلام کے شعبوں (شریعت، طریقت اور سیاست) میں توازن
    ✔ رسول اللہ ﷺ کے اسوہ حسنہ سے توازن کی سنت
    ✔ اخلاق اور معیشت میں توازن کا دینی تصور
    ✔ ہر شے کے حق کی ادائیگی (حضرت ابو درداؓ اور حضرت سلمان فارسی ؓکا واقعہ)
    ✔ غلبہ دین کے لیے جدوجہد کا حق اور تنگی کی ممانعت
    ✔ اسوہ حسنہ او رایمان والی جماعت کی ذمہ داری
    ✔ دین کی بنیادی پہچان (توازن اور عدل)

    بروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔

    https://www.rahimia.org/
    https://web.facebook.com/rahimiainstitute/
    https://www.youtube.com/@rahimia-institute
    منجانب: رحیمیہ میڈیا

    Más Menos
    1 h y 6 m
  • مواطنِ حیاتِ انسانی اور مشائخِ رائے پور کا سلسلۂ ولایت؛ حکمتِ سعیدیہ کے تناظر میں مولانا محمد عباس شادؒ کا یقظانی کردار | 05-12-2025
    Dec 7 2025
    مواطنِ حیاتِ انسانی اور مشائخِ رائے پور کا سلسلۂ ولایت؛ حکمتِ سعیدیہ کے تناظر میں مولانا محمد عباس شادؒ کا یقظانی کردارخُطبۂ جمعۃ المبارکحضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوریبتاریخ : 13؍ جمادی الاخریٰ 1447ھ / 05؍ دسمبر 2025ءبمقام : ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ لاہور خطبے کی رہنما آیاتِ قرآنی:كُلُّ نَفۡسٍ ذَآئِقَةُ الۡمَوۡتِ‌ؕ وَاِنَّمَا تُوَفَّوۡنَ اُجُوۡرَكُمۡ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ‌ؕ فَمَنۡ زُحۡزِحَ عَنِ النَّارِ وَاُدۡخِلَ الۡجَـنَّةَ فَقَدۡ فَازَ ‌ؕ وَمَا الۡحَيٰوةُ الدُّنۡيَا اِلَّا مَتَاعُ الۡغُرُوۡرِ‏ (03– آل عمران: 185)ترجمہ: ’’ہر جی کو چکھنی ہے موت اور تم کو پورے بدلے ملیں گے قیامت کے دن پھر جو کوئی دور کیا گیا دوزخ سے اور داخل کیا گیا جنت میں اس کا کام تو بن گیا اور نہیں زندگانی دنیا کی مگر پونجی دھوکے کی‘‘۔حدیثِ نبوی ﷺ :۱۔ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قَال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَكْثِرُوا ذِكْرَ هَاذِمِ اللَّذَّاتِ" يَعْنِي: الْمَوْتَ.ترجمہ: ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لذتوں کو توڑنے والی (یعنی موت) کو کثرت سے یاد کیا کرو“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4258] ۔ ۔ ۔ ۔ خُطبے کے چند مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 👇✔️ 1۔ موت اور انسانی زندگی کا فلسفہ✔️ انسانی زندگی کا خاتمہ ایک اٹل حقیقت✔️ موت کا وجودی مقام اور اگلے موطن تک رسائی✔️ انسان کے مواطن اور ان کے اثرات✔️ جسمانی و روحانی ارتقاء کے معیار✔️ دنیاوی زندگی کی حیثیت: "متاعِ غرور"✔️ مرنے کے بعد ہیئتِ نفسانی کے مطابق نتائج✔️ 2۔ قبر و حشر کے مراحل اور روحانی قانونِ جزا✔️ مسلمانوں اور منافقوں کے مراتبِ قبر و حشر✔️ نیک اعمال کا نعمتوں اور بد اعمالیوں کا سزا کی صورت میں جواب✔️ حدیث: محبت اور حشر کی نسبت✔️ قیامت میں جماعتوں کے اپنے امام کے ساتھ اٹھائے جانے کا قانون✔️ روحوں کی باہمی محبت و نفرت اور اس کے اثرات✔️3۔ انبیاء کی اجتماعیتیں، روحانی لشکر اور ولایت کا تسلسل✔️ ارواح کے متنوع لشکر✔️ قرآن میں انبیاء کی جماعتوں کا حوالہ اور شاہ صاحب کا منفرد استدلال✔️ اجتماعیتِ انبیاء کے غلبے کا وعدہ✔️اولیاء اللہ کے سلاسل کا جاری ارتقاء✔️ صحبت کے ذریعے ہدایت و ضلالت کا انتقال✔️ اجتماعی ماحول کا فرد کی دنیا و آخرت پر اثر✔️4۔ مشائخِ رائے پور کی روحانی روایت اور حضرت عباس شادؒ کا تعلق✔️حضرت شاہ عبدالعزیز رائے پوریؒ کی مشائخ سے محبت✔️اولیاء کی روحوں کا اپنے محبین کو کھینچ لینا✔️انسان کے اگلے مواطن کا اثر: بلوغت سے موت تک✔️ مولانا محمد عباس شادؒ کی خانقاہ سراجیہ کندیاں سے تربیت کا آغاز✔️ 5۔ مولانا محمد عباس شادؒ کی تعلیمی و تربیتی زندگی کا سفر✔️ابتدائی تربیت: جامعہ عربیہ اسلامیہ بورے والا✔️جامعہ اشاعت العلوم میں تعلیمی قیام✔️جامعہ رشیدیہ اور پھر جامعہ اشرفیہ سے سندِ فراغت✔️مشائخ اور مفتیانِ کرام کی صحبتیں✔️6۔ حضرت شاہ سعید احمد رائے پوریؒ کی صحبت اور مولانا شادؒ کی فکری تشکیل✔️حضرت شاہ سعید احمد کی توجہات اور عملی تربیت✔️شعبہ مطبوعات کی طرف رہنمائی✔️حکمتِ سعیدیہ کے فروغ کی ذمہ داری✔️مولانا شادؒ کا "یقظان بالطبع" ہونا✔️تجدیدی فکر کے عصری تقاضوں کی خدمت✔️7۔ ادارہ ...
    Más Menos
    1 h y 15 m
adbl_web_global_use_to_activate_DT_webcro_1694_expandible_banner_T1